رایا(قسط نمبر-1) از ہانیہ نور اسد

رایا اُن تحریروں میں سے ایک ہے جو کسی منصوبہ بندی کے تحت نہیں لکھی جاتیں؛ وہ محض ایک نام، ایک خیال، ایک منظر یا کسی ان کہے احساس سے جنم لیتی ہیں۔ پھر وہ آہستہ آہستہ لفظوں کی شکل اختیار کر لیتی ہیں، یہاں تک کہ لکھاری خود بھی محسوس نہیں کر پاتا کہ کب ایک خیال، ایک مکمل کہانی بن گیا۔

یہ اُن کہانیوں میں سے نہیں جو صرف لکھی جاتی ہیں، بلکہ اُن میں سے ہے جو لکھی بھی جاتی ہیں اور محسوس بھی کی جاتی ہیں۔ شاید اسی لیے اسے لکھتے ہوئے مجھے جلدی نہیں ہوئی، بوجھ محسوس نہیں ہوا، بلکہ ایک عجیب سا سکون ساتھ رہا۔ جیسے ہر لفظ اپنی جگہ خود ڈھونڈتا گیا ہو۔

رایا اس کہانی کا صرف ایک کردار نہیں، بلکہ اس کے وجود سے جڑی ایک روح ہے۔ کچھ کردار کہانی میں شامل ہوتے ہیں اور کچھ پوری کہانی کو معنی دے جاتے ہیں۔ رایا ان دونوں میں سے کیا ہے— یہ فیصلہ میں نے آپ پر چھوڑ دیا ہے۔

رایا کے بعد یہ کہانی بے جان ہو جائے گی یا مزید جاندار؟ اس سوال کا جواب شاید ہر قاری کے پاس مختلف ہو۔

یہ میری ایک اور تحریر ہے، میرے مزید چند لفظ، ایک اور کوشش— جو اب آپ کے ہاتھوں میں ہے۔

مجھے امید ہے کہ اس ناول میں کہیں نہ کہیں آپ خود کو تلاش کریں گے؛ کسی کردار میں، کسی منظر میں، کسی مکالمے میں یا کسی خاموشی میں۔

اگر یہ کہانی آپ کو کوئی سبق دے جائے تو میرے لفظ کامیاب ہوئے، اور اگر سبق نہ بھی ملے تو امید ہے آپ ان صفحات کے ساتھ کچھ لمحے گزاریں گے، کچھ محسوس کریں گے، اور کم از کم گھر بیٹھے وادیِ لیپا، کشمیر کی خوبصورتی کی ایک جھلک ضرور دیکھ لیں گے۔

4 2 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Newest
Oldest Most Voted