ناول “پرماتما” علیم الحق حقی کے منفرد اسلوب اور گہری فکری سوچ کا آئینہ دار ہے۔ یہ صرف ایک سنسنی خیز داستان نہیں بلکہ انسان کی نفسیات، محبت، نفرت، انتقام، روحانیت اور سچ کی تلاش کو ایک دلچسپ انداز میں پیش کرتا ہے۔ آغاز ہی سے کہانی قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے اور ہر نیا موڑ تجسس میں اضافہ کرتا ہے۔ مصنف نے کرداروں کی داخلی کشمکش کو نہایت مہارت سے پیش کیا ہے۔ ہر کردار اپنے نظریات، خواہشات اور کمزوریوں کے ساتھ سامنے آتا ہے، جس سے وہ حقیقی محسوس ہوتا ہے۔ مکالمے فطری، مؤثر اور کہانی کے مزاج سے ہم آہنگ ہیں، جبکہ واقعات کی ترتیب ایسی ہے کہ قاری مسلسل اگلا صفحہ پڑھنے پر مجبور رہتا ہے۔ ناول کا سب سے مضبوط پہلو کہ انسان کی اصل طاقت اس کی ظاہری حیثیت نہیں بلکہ اس کا کردار، ایمان اور باطنی شعور ہے۔ یہ کہانی قاری کو زندگی، انسانیت اور اخلاقی اقدار پر بھی غور کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔ علیم الحق حقی کا اندازِ بیان ہمیشہ کی طرح رواں، دلکش اور منظر نگاری سے بھرپور ہے۔ انہوں نے ماحول، جذبات اور کرداروں کی کیفیت کو اس خوبی سے بیان کیا ہے کہ قاری خود کو واقعات کا حصہ محسوس کرنے لگتا ہے۔ یہی خوبی اس ناول کو ابتدا سے اختتام تک دلچسپ بنائے رکھتی ہے۔ مجموعی طور پر “پرماتما” ایک فکر انگیز، سنسنی خیز اور بھرپور ناول ہے جس میں تفریح اور معنویت کا خوبصورت امتزاج ملتا ہے۔ یہ ناول نہ صرف علیم الحق حقی کے فنی کمال کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اردو جاسوسی روحانیت ادب میں بھی ایک قابلِ قدر اضافہ ہے۔ یہ ناول ایسے قارئین کے لیے بہترین انتخاب ہے جو دلچسپ پلاٹ کے ساتھ گہرے فکری موضوعات سے بھی لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں۔