موڑ تو سارے من کے ہیں از حمیرا علی

یہ ناول “موڑ تو سارے من کے ہیں” انسانی جذبات، فیصلوں اور اندرونی کشمکش کی ایک خوبصورت عکاسی پیش کرتا ہے۔ اس کہانی میں زندگی کے اُن موڑوں کو اجاگر کیا گیا ہے جہاں انسان کو اپنے دل اور عقل کے درمیان انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ کردار اپنے اپنے حالات، خواہشات اور مجبوریوں کے تحت ایسے فیصلے کرتے ہیں جو بظاہر سادہ مگر حقیقت میں نہایت پیچیدہ ہوتے ہیں۔
ناول اس بات کو نمایاں کرتا ہے کہ اصل جنگ باہر کی دنیا سے نہیں بلکہ انسان کے اپنے اندر چل رہی ہوتی ہے۔ محبت، انا، قربانی اور خود شناسی جیسے عناصر کہانی کو گہرائی بخشتے ہیں۔ مصنفہ نے نہایت خوبصورتی سے دکھایا ہے کہ زندگی کے راستے بدلنے والے موڑ دراصل انسان کے دل میں جنم لیتے ہیں، اور یہی فیصلے اس کی تقدیر کا رخ متعین کرتے ہیں۔ یہ ناول قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔

5 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Newest
Oldest Most Voted