یہ ناول “کیا لڑکی ہونا جرم ہے؟” از شگفتہ رحیم ایک حساس اور حقیقت سے قریب تر تحریر ہے، جو ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کو درپیش مسائل کو بے باکی سے بیان کرتا ہے۔ مصنفہ نے اپنی ذاتی زندگی کے تجربات، مشاہدات اور درد کو الفاظ کی صورت میں پیش کرتے ہوئے اس سوچ کو چیلنج کیا ہے کہ لڑکی ہونا کوئی کمزوری یا جرم ہے۔ اس کہانی میں بچیوں کی پیدائش پر معاشرتی رویے، تعلیم سے محرومی، زبردستی شادی، غیرت کے نام پر ظلم اور خواتین کے حقوق کی پامالی جیسے موضوعات کو تفصیل سے اجاگر کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی یہ ناول امید، حوصلہ اور خود اعتمادی کا پیغام بھی دیتا ہے کہ لڑکیاں اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں اور اپنے خوابوں کو حقیقت بنائیں۔ یہ محض ایک کہانی نہیں بلکہ ہر اس لڑکی کی آواز ہے جو خاموشی سے ظلم سہتی ہے۔ یہ ناول قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اصل جرم لڑکی ہونا نہیں بلکہ معاشرے کی تنگ نظر سوچ ہے۔