
جنگ باز از ڈاکٹر عبدالرب بھٹی
“مقدر کا عروج ہو یا نصیب کا زوال۔۔۔ جانے کن خاموش لمحوں میں زندگی میں شامل ہوجاتے ہیں۔۔۔ لیکن کچھ لوگ تقدیر سے زیادہ تدبیر پر بھروسا کرتے ہیں۔۔۔ وہ جو حالات کی زنجیر میں قید، بوسیدہ در و دیوار تک محدود تھا، تمام تر معصومیت کے ساتھ شب و روز کی ہنگامہ خیزیوں میں مصروف تھا کہ اچانک حرص و طمع اور لالچ کے مارے۔۔۔ چہروں پر شرفا کا نقاب ڈالے، عبرت و مکر کے تمام حربے آزمانے اس کے راستے میں چلے آئے۔۔۔ وہ جو رنگین شاموں، سنگین ہنگاموں اور حیرت انگیز چالوں سے ناآشنا تھا۔۔۔ ایسا بازی گر بن گیا کہ تمام پردہ داروں کی ڈوریاں الجھ کر رہ گئیں۔۔۔ اس کے ذہن میں قید ناآسودہ خواہشوں کا بھنور اسے کسی پل چین سے بیٹھنے نہیں دیتا تھا۔ تقدیر کے سہارے چلنے والا۔۔۔ کچھ اس انداز سے تدبیروں سے اپنی کایا پلٹتا چلا گیا کہ چال بازوں کی تمام چالیں لڑکھڑا گئیں۔”
معاشرتی ناسوروں اور درندوں کی خوں ریز سازشوں اور ستم و ستم ظریفی کا شکار ہونے والے ایک “جنگ باز” کی دلدوز اور روح فرسا داستان!
