علیم الحق حقی کا ناول “انسانی قیامت” ایک ایسا سنسنی خیز اور فکری ناول ہے جو صرف جرم اور معمہ پیش نہیں کرتا بلکہ انسانی نفسیات، اخلاقی زوال، سائنسی تحقیق کے غلط استعمال اور انسان کی بے لگام خواہشات کے نتائج پر بھی روشنی ڈالتا ہے۔ ناول کا آغاز ہی ایک پراسرار فضا سے ہوتا ہے، جو قاری کو آخر تک اپنے سحر میں مبتلا رکھتی ہے۔ مصنف نے اپنی صلاحیت سے کہانی میں سسپنس کو بڑی مہارت سے آگے بڑھایا ہے۔ ہر باب کے ساتھ نئے راز سامنے آتے ہیں اور قاری مسلسل یہ جاننے کے لیے بے چین رہتا ہے کہ حقیقت کیا ہے۔ کردار حقیقت سے قریب محسوس ہوتے ہیں اور ان کے مکالمے کہانی کو مزید جان دار بنا دیتے ہیں۔ خاص طور پر مرکزی کرداروں کی ذہنی کشمکش اور حالات سے نبرد آزما ہونے کا انداز ناول کی اہم خوبی ہے۔ اس ناول کی سب سے نمایاں بات یہ کہ انسان کو یہ سوچنے پر بھی مجبور کرتا ہے کہ اگر علم، طاقت اور سائنس کو اخلاقیات سے الگ کر دیا جائے تو اس کے نتائج پوری انسانیت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہی خیال ناول کے عنوان “انسانی قیامت” کو بھرپور معنویت عطا کرتا ہے۔ علیم الحق حقی کا اسلوبِ نگارش ہمیشہ کی طرح رواں، مؤثر اور منظر نگاری سے بھرپور ہے۔ وہ ماحول، جذبات اور خوف کی کیفیت کو اس انداز سے بیان کرتے ہیں کہ قاری خود کو واقعات کا حصہ محسوس کرنے لگتا ہے۔ یہی خوبی ناول کو ابتدا سے اختتام تک دلچسپ بنائے رکھتی ہے۔ مجموعی طور پر “انسانی قیامت” ایک کامیاب جاسوسی و سسپنس ناول ہے، جس میں تجسس، فکر اور انسانی نفسیات کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ یہ ناول نہ صرف سنسنی پسند قارئین کو پسند آئے گا بلکہ ان لوگوں کو بھی متاثر کرے گا جو ایسی کہانیاں پڑھنا چاہتے ہیں جن میں تفریح کے ساتھ ایک گہرا فکری پیغام بھی موجود ہو۔