دیوار کا پہر از میمونہ صدف

Image Not Found

میمونہ صدف کی تحریروں کا حسن یہی ہے کہ ان کی ہر کہانی کسی نہ کسی اہم سماجی مسئلے کے گرد گھومتی ہے، اور “دیوار کا پہر” بھی اسی روایت کو خوبصورتی سے نبھاتا ہے۔

ساجدہ بھابی جیسے کردار ہمارے معاشرے میں اجنبی نہیں۔ ایسے لوگ جو اپنے ہی عزیزوں کا استحصال کرتے ہیں، ان پر ظلم ڈھاتے ہیں، اور ان کی خاموشی کو اپنی طاقت سمجھ کر مزید بے لگام ہو جاتے ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ مظلوم کی خاموشی اکثر ظالم کے حوصلے بڑھا دیتی ہے، جبکہ جب کوئی اپنے حق کے لیے آواز بلند کرے تو اسے بدکردار ثابت کرکے اس کی آواز دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ساجدہ بھابی کی زیادتیوں اور سہیل کی مسلسل خاموشی نے شاہانہ کو ایسا انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کر دیا جس کے اثرات نغمانہ کی پوری زندگی پر پڑے۔ نغمانہ نے ہمیشہ شاہانہ کو ہی قصوروار سمجھا، اور اپنی جگہ وہ غلط بھی نہیں تھی، کیونکہ شاہانہ کے فیصلے کی وجہ سے سوالات کا سامنا اسے کرنا پڑا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ شاہانہ خود بری بن کر بھی نغمانہ کے لیے ایک بہتر راستہ ہموار کر گئی۔

سہیل جیسے بھائی معاشرے کا ایک تلخ سچ ہیں، جو اپنی بہنوں کی عزت اور کردار پر اٹھنے والے سوال دیکھتے ہیں، اپنی بیوی کی ناانصافیاں بھی جانتے ہیں، مگر پھر بھی خاموش رہتے ہیں۔ ایسی خاموشی بھی ایک طرح کی شراکتِ جرم محسوس ہوتی ہے۔

کیا نغمانہ کی زندگی کبھی آسان ہو سکے گی؟ اس سوال کا جواب جاننے کے لیے “دیوار کا پہر” ضرور پڑھیے۔

یہ کتاب صرف اور صرف تعلیمی و تحقیقی مقصد کے لئے اپلوڈ کی گئی ہے۔
This book has been uploaded solely for educational and research purposes
2 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Newest
Oldest Most Voted