علیم الحق حقی کا ناول “چہرے کا قرض” محض ایک جاسوسی یا معمہ کہانی نہیں بلکہ انسانی نفسیات، سچ اور فریب کے درمیان کشمکش کو نہایت دلچسپ انداز میں پیش کرتا ہے۔ ابتدا ہی سے کہانی قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے اور ہر نیا واقعہ تجسس میں اضافہ کرتا ہے۔ مصنف نے کرداروں کی تشکیل پر خاص توجہ دی ہے۔ ہر کردار اپنے ظاہر اور باطن کے درمیان ایک منفرد تضاد لیے ہوئے ہے، جس سے یہ احساس ابھرتا ہے کہ انسان کا اصل چہرہ ہمیشہ وہ نہیں ہوتا جو دنیا کے سامنے نظر آتا ہے۔ یہی خیال ناول کے عنوان “چہرے کا قرض” کو بھی معنویت عطا کرتا ہے۔ ناول کی سب سے نمایاں خوبی اس کی مضبوط پلاٹ بندی ہے۔ واقعات ایک دوسرے سے اس طرح جڑے ہوئے ہیں کہ قاری آخر تک انجام جاننے کے لیے بےتاب رہتا ہے۔ مکالمے فطری، مؤثر اور کرداروں کی شخصیت کے مطابق ہیں، جبکہ منظر نگاری اور ماحول کی عکاسی کہانی کو مزید جان دار بنا دیتی ہے۔ علیم الحق حقی نے اس ناول میں یہ پیغام دیا ہے کہ جھوٹ، دھوکا اور بناوٹی شخصیت وقتی فائدہ تو دے سکتی ہے، لیکن حقیقت ایک نہ ایک دن ضرور سامنے آتی ہے۔ سچائی، دیانت اور کردار کی مضبوطی ہی انسان کی اصل شناخت ہوتی ہے۔ مجموعی طور پر “چہرے کا قرض” ایک کامیاب، پراثر اور سنسنی سے بھرپور ناول ہے۔ اس میں تجسس، نفسیاتی کشمکش اور اخلاقی سبق کا حسین امتزاج ملتا ہے، جو اسے اردو جاسوسی ادب کی قابلِ مطالعہ تخلیقات میں شامل کرتا ہے۔ یہ ناول ان قارئین کے لیے خاص طور پر موزوں ہے جو معمہ، ذہانت اور غیر متوقع موڑ رکھنے والی کہانیاں پسند کرتے ہیں۔