حسد از صنوبر اقبال

سرد دھند، ویران قبرستان، جلتی موم بتیاں اور مٹی پر رکھی سرخ گلاب کی کلی ۔ یہ سب مل کر ایک ایسا ماحول بناتے ہیں جہاں محبت، نفرت، انتقام اور حسد کی سرحدیں مٹ جاتی ہیں۔ پیچھے دکھائی دینے والا گڑیا نما وجود اور قبر کا اندھیرا اس بات کی علامت ہیں کہ کہانی میں صرف ظاہری دشمن نہیں، بلکہ روحانی اور باطنی قوتوں کا بھی کھیل شامل ہے۔
“یہ کہانی اُس انسان کی ہے جو محبت میں محرومی کے بعد حسد کی ایسی آگ میں جل اُٹھا، جس نے نہ صرف دوسروں کو بلکہ اُسے خود بھی راکھ کر دیا۔”
مصنف: صنوبَر اقبال ۔جن کی تحریریں ہمیشہ انسانی جذبات، نفسیاتی پیچیدگیوں اور معاشرتی تلخیوں کو نرمی اور درد کے امتزاج سے بیان کرتی
