داستان ایمان فروشوں کی عنایت اللہ التمش

Image Not Found

کتاب:داستان ایمان فروشوں کی
مصنف: عنایت اللہ التمش
“داستان ایمان فروشوں کی” صرف ایک تاریخی ناول نہیں ہے بلکہ یہ مسلمانوں کے عروج و زوال کے اسباب پر گہری تنقید ہے۔ عنایت اللہ التمش نے اس کتاب میں بیسویں صدی کے مسلمانوں کی حالت زار کو دیکھتے ہوئے ماضی کے ان اسباق کو اجاگر کرنے کی کوشش کی جو آج بھی مسلم معاشروں کو درپیش ہیں۔ اس ناول کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ 5 جلدوں پر مشتمل ہے اور اس کے 2500 سے زائد صفحات ہیں، اور یہ اردو کے ساتھ ساتھ ہندی سمیت کئی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے .
یہ ناول بارہویں صدی عیسوی کے اوائل میں ترتیب دیا گیا ہے، جب صلیبی جنگوں کا سلسلہ عروج پر تھا۔ صلیبیوں نے 1099ء میں بیت المقدس پر قبضہ کر لیا تھا اور مسلمان اپنی کمزوری اور انتشار کی وجہ سے انہیں نکال باہر کرنے سے قاصر تھے .ناول کا آغاز اس وقت سے ہوتا ہے جب سلطان نور الدین زنگی (جو شام کے فرمانروا تھے) نے مصر کی فاطمی خلافت کو صلیبی یلغار سے بچانے کے لیے اپنی فوجیں بھیجیں۔ اس مہم میں صلاح الدین ایوبی اپنے چچا شیر کوہ کے ہمراہ تھے۔ بعد ازاں جب صلاح الدین مصر کا گورنر مقرر ہوا تو اس نے نہ صرف صلیبیوں کے حملوں کو ناکام بنایا بلکہ فاطمی خلافت کا خاتمہ کرکے وہاں عباسی خلافت کا خطبہ جاری کرایا .صلاح الدین ایوبی کی مصر میں آمد سے صلیبیوں کو شدید دھچکا لگا۔ اس سے پہلے وہ آسانی سے قاہرہ کے درباریوں کو رشوت دے کر یا سازشوں کے ذریعے مصروف رکھتے تھے۔ لیکن صلاح الدین نے ایک مضبوط حکومت قائم کی اور عوام کے دلوں میں جگہ بنائی۔ صلیبیوں کی ایما پر فاطمی درباریوں اور غلاموں کی فوج (سودانی افواج) نے صلاح الدین کے خلاف بغاوت کی، لیکن وہ اپنی ذہانت اور فراست سے اس بغاوت کو کچلنے میں کامیاب رہے .ناول کے اس حصے میں مصنف نے بڑی خوبصورتی سے دکھایا ہے کہ کس طرح صلیبی مسلمانوں کے خلاف نفسیاتی اور جاسوسی جنگ لڑ رہے تھے۔ صلیبی خواتین، رقم اور طاقت کا لالچ دے کر مسلم امرا اور سپہ سالاروں کو خرید لیتے تھے۔ انھیں “ایمان فروش” کہا گیا ہے۔یہاں مصنف نے حشاشین (Assassins) کے خطرناک کردار کو بھی اجاگر کیا ہے۔ حشاشین ایک خفیہ فرقہ تھا جو اپنے مخالفین کو قتل کرنے کے لیے بدنام تھا۔ صلیبی ان سے مسلمانوں کے خلاف استعمال کرتے تھے۔ صلاح الدین کو متعدد بار حشاشین کے قاتلوں کا سامنا کرنا پڑا، یہاں تک کہ وہ خود کئی بار قاتلانہ حملوں میں بال بال بچے .حشاشین کا سب سے بڑا گڑھ قلعہ الموت تھا۔ صلاح الدین نے صلیبیوں اور حشاشین کے خلاف سخت محاذ آرائی کی اور بالآخر اس قلعے کو فتح کرکے ان کا خاتمہ کیا .
1187ء میں صلاح الدین نے صلیبی افواج کوجنگ حطین (Battle of Hattin) میں بری طرح شکست دی۔ یہ جنگ تاریخ کی فیصلہ کن جنگوں میں سے ایک ہے۔ اس کے بعد بیت المقدس کی طرف پیش قدمی کی اور شہر کا محاصرہ کر لیا۔ 2 اکتوبر 1187ء کو بیت المقدس مسلمانوں نے فتح کر لیا۔ صلاح الدین کا کردار اس موقع پر نہایت اعلیٰ ظرفی کا حامل تھا۔ اس نے صلیبیوں کے برعکس شہر کے عام باشندوں کو قتل عام نہیں کیا اور انھیں رہائی کے لیے تاوان ادا کرنے کی اجازت دی .بیت المقدس کی فتح کے بعد فرانس اور انگلینڈ کے بادشاہوں نے تیسری صلیبی جنگ کا اعلان کر دیا۔ انگلینڈ کا بادشاہ رچرڈ شیردل (Richard the Lionheart) صلاح الدین کا سب سے بڑا حریف بنا۔ دونوں میں کئی معرکے ہوئے اور دونوں ایک دوسرے کی فوجی صلاحیتوں کے معترف تھے۔ بالآخر 1192ء میں رمضے کا معاہدہ ہوا، جس کے تحت صلیبیوں کو ساحلی علاقے تو مل گئے لیکن بیت المقدس صلاح الدین کے قبضے میں رہا .
ناول کا بنیادی موضوع “ایمان فروشی” ہے۔ التمش نے واضح کیا ہے کہ جب قوموں کا زوال آتا ہے تو وہ بیرونی دشمن سے نہیں بلکہ اپنے اندر موجود غداروں اور ایمان فروشوں سے ہوتا ہے۔ مصنف نے ان مسلم امرا اور درباریوں کی نشاندہی کی جو ذاتی مفاد کے لیے صلیبیوں سے مل گئے تھے .صلاح الدین ایوبی کا کردار ایک مثالی مسلمان حکمران کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ وہ نہایت سادہ زندگی بسر کرتا ہے، انصاف پسند ہے، اور اپنے دشمن کے ساتھ بھی اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرتا ہے۔ مصنف نے دکھایا ہے کہ جب صلیبی خواتین کے ذریعے اسے پھانسنا چاہتے تھے تو وہ پتھر کی طرح ڈٹا رہا، جبکہ اس کے دور کے دوسرے امرا آسانی سے پھنس جاتے تھے .ناول کا ایک سبق یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کی کمزوری کا سب سے بڑا سبب ان کی باہمی پھوٹ تھی۔ نور الدین زنگی اور صلاح الدین ایوبی نے اتحاد کی قوت سے ہی صلیبیوں کو شکست دی . مصنف نے صلیبی جنگوں میں جاسوسی نیٹ ورک، خفیہ ایجنسیوں اور نفسیاتی جنگ کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا ہے۔ ان کا پیغام یہ ہے کہ محض تلوار سے نہیں بلکہ عقل، منصوبہ بندی اور جدید حکمت عملی سے دشمن کو شکست دی جا سکتی ہے .
“داستان ایمان فروشوں کی” صرف ایک کہانی نہیں بلکہ مسلمانوں کے لیے آئینہ ہے۔ عنایت اللہ التمش نے 1960 اور 70 کی دہائی میں جب یہ ناول لکھا تو مسلم دنیا انتشار کا شکار تھی۔ مغربی استعمار نے مسلم ممالک پر قبضہ کر رکھا تھا اور عرب دنیا میں اسرائیل کے قیام نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا تھا۔ اس ناول نے مسلم نوجوانوں میں تاریخی شعور بیدار کیا اور انھیں بتایا کہ اگر وہ اپنے ایمان سے وابستہ رہیں اور اتحاد پیدا کریں تو وہ دوبارہ عروج حاصل کر سکتے ہیں .یہ ناول اپنی 2500 صفحات کی طویل داستان کے باوجود قاری کو شروع سے آخر تک باندھے رکھتا ہے۔ اس میں جوش، خوف، محبت، نفرت، جاسوسی، جنگی حکمت عملی اور کرداروں کی گہرائی موجود ہے۔ التمش کی تحریر میں روانی اور دلکشی ہے کہ قاری خود کو صلاح الدین کے لشکر کا حصہ محسوس کرنے لگتا ہے .”داستان ایمان فروشوں کی” اردو ادب کا وہ بیش بہا خزانہ ہے جسے ہر مسلمان کو پڑھنا چاہیے۔ یہ ناول صرف ماضی کی داستان نہیں بلکہ حال کی ترجمانی اور مستقبل کے لیے رہنما اصول فراہم کرتا ہے۔ عنایت اللہ التمش نے صلاح الدین ایوبی کی شخصیت میں ایک مکمل انسان اور مثالی حکمران کی تصویر پیش کی ہے۔اس کتاب کا سب سے بڑا پیغام یہ ہے کہ قومیں اس وقت تک زندہ رہتی ہیں جب تک ان کے پاس “ایمان” ہے، اور جب یہ ایمان “فروخت” ہونے لگتا ہے تو عروج کا سورج غروب ہونے لگتا ہے۔ آج مسلم دنیا کو اگر اپنی منزل معلوم کرنی ہے تو اسے صلاح الدین جیسے کرداروں سے روشنی لینا ہوگی اور “ایمان فروشوں” سے بچنا ہوگا۔

/* container */ .kmd-wrap { text-align:center; margin:18px 0; font-family: Arial, sans-serif; } /* button */ .kmd-btn { display:inline-block; width:300px; max-width:90%; padding:12px 18px; border-radius:50px; background:#000; color:#ffff; font-size:18px; font-weight:800; border:0; cursor:pointer; box-shadow:0 0 12px rgba(0,255,255,0.08); text-align:center; } /* popup overlay */ .kmd-popup-overlay { display:none; position:fixed; top:0; left:0; width:100%; height:100%; background:rgba(0,0,0,0.8); z-index:9999; justify-content:center; align-items:center; } /* popup box */ .kmd-popup-box { background:#fff; max-width:90%; max-height:90%; border-radius:10px; overflow:auto; position:relative; padding:10px; } /* close button */ .kmd-close { position:absolute; top:10px; right:15px; font-size:24px; font-weight:bold; color:#000; cursor:pointer; } /* popup content (image responsive) */ .kmd-popup-box img { max-width:100%; height:auto; display:block; margin:0 auto; }
× Popup
(function(){ const btn = document.getElementById(‘kmd-download-btn’); const popup = document.getElementById(‘kmd-popup’); const closeBtn = document.getElementById(‘kmd-close’); // show popup btn.addEventListener(‘click’, function(){ popup.style.display = “flex”; }); // close popup closeBtn.addEventListener(‘click’, function(){ popup.style.display = “none”; }); // click outside to close popup.addEventListener(‘click’, function(e){ if(e.target === popup){ popup.style.display = “none”; } }); })();
یہ کتاب صرف اور صرف تعلیمی و تحقیقی مقصد کے لئے اپلوڈ کی گئی ہے۔
This book has been uploaded solely for educational and research purposes
3 2 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Newest
Oldest Most Voted