میرا پاکستان از راحیل ارشد

تاریخ کے اوراق جب بھی 14 اگست 1947ء کے تاریخی باب پر پلٹتے ہیں، تو ان میں سے صرف جغرافیائی حدود کی تبدیلی یا کسی نئے نقشے کی رونمائی نہیں ہوتی، بلکہ ان صفحات سے لاکھوں بے گناہ انسانوں کی سسکیاں، جلتے ہوئے مکانوں کا دھواں، اور بچھڑے ہوئے پیاروں کا نوحہ بھی سنائی دیتا ہے۔ یہ داستان ہے اُس آزادی کی، جس کی قیمت کسی کاغذ پر رقم نہیں کی گئی، بلکہ اس کی قیمت خون کی ندیوں، اجڑے ہوئے سہاگوں اور یتیم بچوں کے آنسوؤں سے ادا کی گئی۔
“میرا پاکستان” صرف ایک کہانی نہیں، بلکہ اُن گمنام قربانیوں کا ایک دردناک اور روح فرسا مرثیہ ہے جو وقت کی گرد میں کہیں گم ہو گئیں۔ یہ کہانی ہے بابا فتح دین کی اُس مٹی سے محبت کی جسے وہ اپنے آباؤ اجداد کے گاؤں سے پوٹلی میں باندھ کر لایا تھا؛ یہ کہانی ہے معصوم اظہر کے اُس ٹوٹتے اور جڑتے ہوئے خواب کی جو اپنے باپ کے لکڑی کے کھلونے میں بسںتا تھا؛ اور یہ کہانی ہے اُس ضبط اور عزم کی جو آلام و مصائب کے طوفانوں میں بھی امید کا چراغ بجھنے نہیں دیتا۔
جب آپ اس کہانی کا ہر ایک لفظ پڑھیں گے، تو آپ کو اپنے وجود میں اُس رات کا سرد پسینہ اور پھر آزادی کی پہلی صبح کی تپش محسوس ہوگی۔ یہ پیش لفظ اور یہ داستان ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جس چھت کے نیچے ہم آج سکون کا سانس لے رہے ہیں، وہ چھت لاکھوں شہیدوں کے جسدِ خاکی پر کھڑی ہے۔
آئیے! اس کہانی کے ہر حرف کے ساتھ اُن روحوں کو خراجِ تحسین پیش کریں جنہوں نے اپنے “آج” کو ہمارے “کل” پر قربان کر دیا، تاکہ ہم ایک آزاد، خوددار اور پرامن فضا میں سر اٹھا کر کہہ سکیں۔
میرا پاکستان!

5 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Newest
Oldest Most Voted