پیلا از انیسہ خٹک

Image Not Found

یہ کتاب جو آپ کے سامنے ہے، اس کا نام میں نے “پیلا” رکھا ہے۔ یہ نام اتفاقی نہیں۔ یہ اُس خاموش گھر کا نام ہے جس میں ہم سب کبھی نہ کبھی قید ہوتے ہیں — وہ گھر جو ہمارے غموں، خوفوں، ناکامیوں اور مایوسیوں کی دیواروں سے بنا ہوتا ہے۔

یہ کتاب لکھنے کا خیال میرے ذہن میں اچانک نہیں آیا۔ یہ سالوں کے مشاہدے، سینکڑوں لوگوں سے گفتگو، اور سب سے بڑھ کر اپنے ذاتی سفرِ باطن کا نتیجہ ہے۔ میں نے دیکھا کہ ہمارے معاشرے میں ہر طرف بے چینی ہے، ہر طرف خوف ہے، ہر طرف ایک عجیب سی خودغرضی پھیلی ہوئی ہے۔ لوگ دولت کے ڈھیر لگا رہے ہیں مگر اندر سے خالی ہیں۔ لوگ سوشل میڈیا پر ہزاروں دوست رکھتے ہیں مگر حقیقی زندگی میں تنہا ہیں۔

میں نے خود بھی اس تاریکی کا سامنا کیا۔ ایسے لمحات آئے جب مجھے لگا کہ میں ایک ایسے پیلے میں قید ہوں جس سے نکلنے کی کوئی راہ نہیں۔ لیکن پھر میں نے سیکھا — قدرت کے اس اصول کو سمجھا کہ ہر پیلا ٹوٹنے کے لیے ہی بنایا جاتا ہے۔ ہر تاریکی اپنے اندر روشنی کی کرن رکھتی ہے۔ اس کتاب کو لکھنے کا مقصد صرف علمی باتیں کرنا نہیں ہے۔ نہ ہی یہ ایک عام نفسیاتی کتاب ہے جس میں خشک نظریات پیش کیے گئے ہوں۔ یہ ایک ایسے سفر کی داستان ہے — ہر اس انسان کی داستان جو اپنے وجود کے قید خانے سے نکل کر حقیقی آزادی حاصل کرنا چاہتا ہے

یہ کتاب صرف اور صرف تعلیمی و تحقیقی مقصد کے لئے اپلوڈ کی گئی ہے۔
This book has been uploaded solely for educational and research purposes
2 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Newest
Oldest Most Voted