“بالائے ستم” علیم الحق حقی کا ایک سنسنی خیز جاسوسی ناول ہے جس میں جرم، نفسیاتی کشمکش، تجسس اور انسانی ذہن کے تاریک پہلوؤں کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ ناول کا آغاز ہی ایک ایسے خوفناک واقعے سے ہوتا ہے جو قاری کو ابتدا ہی سے اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اور آگے کیا ہونے والا ہے، یہی تجسس اسے مسلسل مطالعہ پر مجبور کرتا ہے مصنف نے یہ واضح کیا ہے کہ انسان کی سوچ اسے انسانیت کا محافظ بھی بنا سکتی ہے اور تباہی کا سبب بھی۔ اسی تصور کو بنیاد بنا کر کہانی میں ایسے کردار پیش کیے گئے ہیں جن کی سفاکی، ذہنی پیچیدگی اور جرائم قاری کو حیران کر دیتے ہیں۔ کہانی آگے بڑھتے ہوئے صرف ایک جرم کی تفتیش نہیں رہتی بلکہ انسانی نفسیات کا بھی گہرا مطالعہ بن جاتی ہے۔ علیم الحق حقی کی زبان سادہ، رواں اور دلکش ہے۔ غیر ضروری طوالت سے گریز کرتے ہوئے انہوں نے ہر منظر کو اس انداز سے بیان کیا ہے کہ قاری خود کو واقعات کا حصہ محسوس کرتا ہے۔ مکالمے حقیقت سے قریب اور کرداروں کے مطابق ہیں، جبکہ سسپنس آخر تک برقرار رہتا ہے۔ مجموعی طور پر “بالائے ستم” ایک مضبوط جاسوسی ناول ہے جس میں سنسنی، معمہ، نفسیاتی تجزیہ اور دلچسپ پلاٹ کا خوبصورت امتزاج ملتا ہے۔ یہی خصوصیات اسے جاسوسی ادب کے شائقین کے لیے ایک یادگار مطالعہ بناتی ہیں۔ علیم الحق حقی نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ اردو جاسوسی ادب کے نمایاں اور منفرد ناول نگاروں میں شمار ہوتے ہیں۔