“پسِ پردہ شب” از علیم الحق حقی یہ ایک دلچسپ جاسوسی اور سسپنس کہانی ہے جس میں ہر باب کے ساتھ نئے راز سامنے آتے ہیں۔ کہانی کا مرکزی کردار ایک ایسے قتل اور پراسرار واقعات کی تفتیش کرتا ہے جن کے پیچھے چھپے ہوئے کردار، دھوکا، لالچ اور مجرمانہ سازشیں آہستہ آہستہ بے نقاب ہوتی ہیں۔ مصنف نے واقعات کو اس انداز سے پیش کیا ہے کہ قاری آخر تک تجسس میں مبتلا رہتا ہے۔ تبصرہ: “پسِ پردہ شب” علیم الحق حقی کی عمدہ جاسوسی کہانیوں میں شمار کی جا سکتی ہے۔ ناول کی سب سے بڑی خوبی اس کا مضبوط پلاٹ، مسلسل سسپنس اور کرداروں کی حقیقت کو مرحلہ وار سامنے لانے کا انداز ہے۔ ہر موڑ پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اصل مجرم سامنے آ گیا ہے، لیکن اگلا واقعہ قاری کی سوچ بدل دیتا ہے۔ مصنف کی زبان سادہ، رواں اور دلکش ہے، جبکہ مکالمے حقیقت کے قریب اور مؤثر ہیں۔ کہانی میں انصاف، جرم اور انسانی نفسیات کو بھی خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر یہ ایک ایسی کہانی ہے جو آغاز سے اختتام تک قاری کی دلچسپی برقرار رکھتی ہے اور جاسوسی ادب کے شوقین افراد کے لیے بہترین انتخاب ہے۔