عشق زاد از نازیہ کامران کاشف

ایک جن زادہ سلازار جسے آسمانوں پر نقب لگانے والے شیاطین کی بیخ کنی کے لئے منتخب کیا گیا۔
جماعت عارفین جنہوں نے اس جن زاد کو اس رتبہ پر فائز کیا اور اسے اتنی طاقتیں عطا کیں جن کی مدد سے کوئی بھی شیطان اس کے مدمقابل ٹھہر نہ پاتا
مثنوی: ایک حسیں دوشیزہ جو پیدا ہی عشق زاد ہوئی جس کی ماں نے عشق کی بنیاد رکھی جسے مثنوی کے نانا نے ہمیشہ کے لئے خود سے جداکر دیا وہی عشق انتہا پا کر مثنوی کی سرشت میں شامل ہو گیا
شاہ میر: جو نسل در نسل ایک عہد کے بندھے ہوئے خاندان کا بڑا بیٹا تھا جس نے اس عہد کو آگے بڑھانا تھا
شاہ صاحب: ایک ایسی معتبر شخصیت جو جنات اور انسانوں میں یکساں محبوب تھی سلازار جن کا فخر تھا۔ وہ سلازار جو شاہ صاحب کے آنکھ کے اشارے پر اپنی جان قربان کر دیا اپنا فرض سمجھتا تھا
سلازار جو فرض کے لئے اپنی جان دینے کے لئے ہر وقت تیار رہتاتھا
پھر یوں ہوا کہ ایک عشق زاد نے دوسرے عشق زاد کی خوشبو کو پالیا اور پھر وہ سب ہوا جو ناقابل یقین تھا
ایک جن زاد جو ایک عشق زاد کا غلام ہو گیا
ایک عشق ذاد مثنوی جو ایک جن زاد کی دیوانی ہوگئی
ایک عشق زاد جو مثنوی کا دیوانہ ہو گیا
اس مثلث نے ایک دوسرے سے ملنا ہی تھا مگر کیسے؟
عشق حقیقی سے عشق مجازی کا سفر کرنے والی ایک حیرت انگیز دلچسپ داستان
محبت کے جذبات سے سرشار ایک مکمل داستان جو ہر لحظہ ایک نیا پہلو بدل لیتی ہے
پڑھیں اور لطف اندوز ہوں

1 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Newest
Oldest Most Voted