من و سلویٰ سے ایک اقتباس__ “وہ صرف پاکستان سے غیر قانونی طور پر کویت جانے والوں کا پہلا گروپ نہیں تھا۔ وہ اس فشنگ ٹرالر کے مالک کا بھی اس کام میں آنے کے بعد پہلا ٹرپ تھا اور وہ بھی اتنا ہی نروس اور پریشان تھا جتنا اس گروپ کے تینوں لوگ اور اس پریشانی میں وہی ہوا تھا جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔ سمندر میں جس جگہ پر اس ٹرالر کو جس لانچ پر انہیں منتقل کرنا تھا۔ وہ اس جگہ پر نہیں پہنچ سکا بلکہ اگلے تین ہفتے سمندر میں ادھر ادھر بھٹکتا رہا۔ اور ان تین ہفتوں میں کرم علی کو اپنی زندگی کے سب سے بھیانک تجربات ہوئے تھے۔ وہ اس کے ہی نہیں ان دونوں لڑکوں کی زندگی کا بھی پہلا سمندری سفر تھا اور صرف بارہ گھنٹے گزرنے کے بعد ہی وہ تینوں Sea Sickness کا شکار ہو گئے تھے۔ ٹرالر پر مچھلیاں پکڑنے والے ایک مچھیرے نے ان پر ان چند روایتی ٹوٹکوں کا استعمال کیا جنہیں وہ خود اپنے اوپر استعمال کرتے تھے کرم علی کو اس سے کچھ افاقہ ہوا مگر باقی دونوں لڑکوں کو نہیں۔ جذام والے لڑکے کی حالت سب سے زیادہ خراب تھی اس کے ہاتھ پر جذام سمندر کی نمکین ہوا کی وجہ سے اسے بے حداذیت دے رہاتھا۔ ٹرالر کے مالک کو اس کی بیماری کا شروع میں پتہ نہیں تھا ورنہ، وہ اسے کسی بھی صورت میں اپنے ٹرالر پر نہ لاتا۔ مگر ٹرالر پر اس کی بیماری کا پتہ چلنے کے بعد اب مالک سمیت سارے لوگ اس کے پاس آنے سے کترانے لگے تھے۔ تین ہفتوں میں سمندر میں بھٹکتے رہنے کے دوران اس کاجذام بڑھتا گیا تھا۔ اس میں سے پیپ رسنے لگا تھا۔ جذام اب اس کے ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ پر بھی منتقل ہو گیا تھا۔ اس کے ہاتھ بری طرح سوج گئے تھے اور پیپ کے ساتھ اب اس میں سے خون رسنے لگا تھا۔ کرم کے علاوہ کوئی اور اس کے پاس نہیں آتا تھا۔ صرف وہی اس کے پاس آکر اس کے منہ میں وہ ابلے ہوئے چاول اور مچھلی کا شوربا ڈانے کی کوشش کرتا جو اس ٹرالر پر پکتا تھا۔ وہ جتنا کھانا کھاتا، قے کی صورت میں اتنا ہی باہر نکال دیتا کرم دن میں دو دو تین تین بار اسے کھانا کھلانے کی کوشش کے دوران ٹرالر کے ڈیک پر پھیلی وہ گندگی ماتھے پر ایک شکن لائے بغیر صاف کرتا دوسرے ہفتے کے اختتام تک اس لڑکے نے کھانا پینا چھوڑ دیا تھا۔ زیادہ سے زیادہ جو چیز وہ اب اپنے اندر لے جانے کے قابل رہا تھا۔ وہ پانی تھا اسے اب تیز بخار رہتا تھا اور وہ زیادہ ترغنودگی کی حالت میں رہتا تھا۔ تیسرے ہفتے کے آغاز میں ایک صبح کرم نے اسے بے حس وحرکت پایا تھا۔ وہ رات کو کسی وقت مر گیا تھا۔ موت کو اتنے قریب سے دیکھنے کا یہ کرم کا پہلا تجربہ تھا۔ وہ بے حد خوفزدہ ہو گیا تھا۔ مگر یہ صرف ابتدا تھی ٹرالر کے مالک نے اس لڑکے کی لاش کو سمندر میں پھینک دیا تھا۔ شدید گرمی کے موسم میں وہ اس لاش کو ٹرالر پر نہیں رکھ سکتے تھے اور وہ بھی اس صورت میں جب وہ راستہ بھول چکے تھے۔ کرم نے اپنی آنکھوں کے سامنے ایک چادر میں لپٹی اس لاش کو سمندر برد ہوتے دیکھا تھا۔ وہ کچھ دیر پانی کی سطح پر نظر آتی رہی تھی پھر آہستہ آہستہ پانی اسے نگل گیا تھا اور شاید اس کے ساتھ ہی اس کے خاندان کی قسمت بھی ڈوب گئی تھی۔ اس کے گھر والے کویت سے اس کے بھیجے ہوئے دیناروں کے رزق کا انتظار کرتے ہوئے بہت عرصہ تک یہ بھی نہیں جان پاتے کہ وہ خود مچھلیوں کا رزق بن چکا تھا۔ من و سلویٰ غریبی سے امیری تک کا سفر دو مسافر کرم علی اور زینی دونوں نے ہی مشکل حالات دیکھے اور اپنے لئے راستے تلاش کئے کرم علی مخلص انسان اس نے جو راستہ چنا وہ حلال رزق کا تھا جس میں مشکلات تو تھیں لیکن برکتیں بھی تھیں زینی جس نے آسائشوں کا راستہ چنا سب کو لگتا تھا کہ وہ خوش قسمت ہے دولت کی دیوی اس پر مہربان ہے اور اسکی دنیا میں ہی جنت یے لیکن سچ میں یہ جنت صرف دنیا تک ہی محدود تھی۔ ۔ حرام رزق میں برکت نہیں ہوتی سکون نہیں ہوتا۔ ۔ ۔ بس یہی ہے اس کہانی کی تھیم حلال اور حرام