عہدِ الست تنزیلہ ریاض کا ایک نہایت پُراثر، فکری اور جذباتی ناول ہے جس میں محبت، وفا، آزمائش اور تقدیر کے گہرے موضوعات کو نہایت دلنشیں انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ سرورق پر ابھرتا ہوا سنہری افق اور سمندر کا منظر اس بات کی علامت ہے کہ یہ کہانی امید، انتظار اور ایک لازوال عہد کی علامت ہےوہ عہد جو روحوں نے ازل میں اپنے رب سے کیا تھا۔ ابتدائی صفحات میں مصنفہ نے انسانی زندگی کی ناپائیداری، تعلقات کی نزاکت اور آزمائشوں کی حقیقت کو فلسفیانہ انداز میں بیان کیا ہے۔ کہانی کا مرکزی محور چند ایسے کردار ہیں جو محبت، خاندانی دباؤ، سماجی اقدار اور ذاتی انا کے بیچ پس رہے ہیں۔ ہر کردار اپنے اندر ایک جنگ لڑ رہا ہےکوئی ماضی کی یادوں کا اسیر ہے، کوئی حال کی مجبوریوں میں جکڑا ہوا، اور کوئی مستقبل کے خوابوں کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ ناول میں رشتوں کی حرمت، ماں باپ کی دعاؤں کی طاقت، سچی محبت کی آزمائش اور اللہ سے کیے گئے عہد کی یاد دہانی بار بار سامنے آتی ہے۔ مصنفہ نے مکالموں اور منظر نگاری کے ذریعے جذبات کو اس خوبی سے ابھارا ہے کہ قاری خود کو کرداروں کے ساتھ جڑا ہوا محسوس کرتا ہے۔ عہدِ الست محض ایک رومانوی داستان نہیں بلکہ ایمان، صبر اور وفاداری کا سبق دینے والی کہانی ہے۔ یہ ناول قاری کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہم اپنے ازلی عہد کو یاد رکھتے ہیں؟ کیا ہم آزمائش کے وقت بھی وفا نبھا پاتے ہیں؟ یہ ایک ایسی دل چھو لینے والی تحریر ہے جو محبت کو عبادت اور رشتوں کو امانت بنا کر پیش کرتی ہے۔